نئی دہلی ، 18؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)انصاف کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ گنہگار بھلے ہی بچ جائے، لیکن بے گناہ کو سزا نہیں ملنی چاہئے- سپریم کورٹ نے کچھ اسی بنیاد پر ضمانت اور قید کو لے کر فیصلہ دیاہے - اس نے کہا ہے کہ ضمانت کو فروغ دینا چاہئے نہ کہ جیل میں قید کو- اس کے ساتھ ہی اس نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ کئی ہدایات دینے کے باوجود نچلی عدالتوں کے ذریعہ ضمانت کو حوصلہ افزا کرنے میں ہچکچاہت دکھائی ہے- سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسی عدالتوں کی ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے -سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ اگر ضمانت دینے سے انکار کرنے کی سیکڑوں وجوہات ہیں تو ضمانت دینے کی بھی سیکڑوں وجوہات ہیں -سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے موٹے مقدموں میں بھی ملزموں کی گرفتاری عام ہو گئی ہے- خاص طور پر ایسے معاملات میں جن میں انتقامی کارروائی کی گئی ہو- چاہے وہ صحافیوں کی رپورٹنگ جیسے معاملات ہوں یا سیاسی انتقام کے- حال ہی میں خود سپریم کورٹ نے چھوٹے معاملات میں ای ڈی کی اس طرح کی کارروائی کے خلاف خبردار کیا ہے- سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون کے اندھا دھند استعمال کے خلاف ای ڈی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اپنی برتری کھو دے گا- چیف جسٹس این وی رمن نے کہاتھا کہ، آپ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کو کمزور کر رہے ہیں - نہ صرف اس معاملے میں - اگر آپ اسے 10,000روپے اور100روپے کے کیس میں بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیں تو کیا ہوگا؟ سی جے آئی نے کہاتھا کہ آپ تمام لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈال سکتے-
آپ کو اس کا صحیح استعمال کرنا ہوگا-سپریم کورٹ نے کئی احکامات میں شخصی آزادی کو ایک اہم پہلو سمجھا ہے- ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاہے کہ ان معاملوں میں گرفتاری معمول کے مطابق نہیں کی جانی چاہئے جب ملزم جانچ میں تعاون کررہا ہو- اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ شخص فرار ہو جائے گا یا جانچ کو متاثرکرے گا-عدالت نے اکتوبر میں اپنی ہدایت میں کہا تھا کہ اگر کوئی ملزم تفتیش میں تعاون کرتا ہے اور تفتیش کے دوران اسے گرفتار نہیں کیا جاتا تو اسے چارج شیٹ داخل کرتے وقت حراست میں نہیں لیا جانا چاہئے-سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک ٹرائل کورٹ بھی چارج شیٹ کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتی کیونکہ ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، اپنے اس حکم کو یہ دیکھتے ہوئے کہ ٹرائل کورٹ کے ذریعہ ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا، جسٹس سنجے کشن کول اورایم ایم سندریش کی بنچ نے کہاکہ سپریم کورٹ جو اشارہ دینا چاہتا تھا وہ نہیں پہنچا ہے اورنچلی عدالتیں ضمانت دینے میں گھبرا رہی ہیں - بنچ نے کہاکہ خیال ضمانت کو حوصلہ افزا کرنے کاتھا، اس کے برعکس نہیں، لیکن ایسا نہیں ہو رہاہے- یہ سب ذہنیت کے بارے میں نہیں ہے- لیکن ذہنیت ضمانت سے انکار کرنے کا طریقہ کھوجنے کی ہے - اسے بدلنا ہوگا-سپریم کورٹ نے کہاکہ یہ پریشان کرنے والے حقائق ہیں کہ عدالتیں، اہم مسائل کی بجائے صرف ضمانت کے معاملوں کو طے کرنے میں کافی وقت گزار رہی ہیں اور جن معاملوں کا فیصلہ عدالت عالیہ کو کرناچاہئے تھا وہ سپریم کورٹ تک پہنچ جاتے ہیں - بنچ نے کہاکہ نتیجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ ضمانت عرضیوں سے بھر گئی ہے- اس نے کہاکہ ضمانت کی درخواست کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی،لیکن حقیقت میں اس میں اضافہ ہوا ہے -